ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 2اکتوبر سے 12لاکھ حاملہ خواتین کو تغذیہ بخش غذا : سدارامیا

2اکتوبر سے 12لاکھ حاملہ خواتین کو تغذیہ بخش غذا : سدارامیا

Thu, 28 Sep 2017 01:17:11    S.O. News Service

بنگلورو ، 27ستمبر (یواین آئی ) کرناٹک کے وزیراعلی سدارامیا نے کہا ہے کہ روزانہ 12لاکھ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماوں کو تغذیہ بخش غذا 2اکتوبر سے ریاست بھر کے چائلڈ کیر سنٹرس میں فراہم کی جائے گی۔انہوں نے بنگالورو میں کل شب انڈیا ٹوڈے میڈیاگروپ کی جانب سے منعقدہ ریاستی کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تغذیہ بخش غذا کے علاوہ متروپورنا لائف سائیکل ہیلت اسکیم کے تحت آنگن واڑی سنٹرس میں کونسلنگ اور دیگر حاملہ خواتین کے لئے دیگر مفید اشیاء فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام کے لئے صحت کے وعدے کے مطابق حکومت یکم نومبر سے آروگیہ بھاگیہ مفت جامع اسکیم کا آغاز کرے گی تاکہ ریاست بھرکے 1.4کروڑ افراد کو فائدہ حاصل ہوسکے ۔ انہو ں نے کہا کہ کرناٹک ملک کی پہلی ریاست ہوگی جو سماجی بہبود کے ہمارے وعدہ کے حصہ کے طور پر آفاقی صحت کا احاطہ کرے گی۔یہ دعوی کرتے ہوئے کہ ریاست کو عنقریب بھوک سے پاک بنایا جائے گا ' سدارامیا نے کہا کہ ان کی حکومت 2اکتوبر سے بنگالورو کے اندرا کینٹینس کے علاوہ ریاست کے دیگر شہروں اور ٹاونس میں مزید شہری غریبوں اور نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کو قابل دسترس غذا فراہم کرے گی۔شہری غریبوں کے لئے قابل دسترس غذا گذشتہ 4برسوں کے دوران ریاست کی سبسیڈی والی انابھاگیہ اسکیم کے تحت فراہم کی جارہی ہے جس میں ہر ماہ معاشی طور پر غریب افراد کو 7کلوچاول اور گیہوں مفت فراہم کیا جارہا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ شیرا بھاگیہ اسکیم کے تحت ریاست میں چلائے جانے والے امدادی اسکولس کے ایک کروڑ طلبہ کو ہفتہ میں 5دن دودھ ' ہفتہ میں 2دن 60لاکھ بچو ں کو آنگن واڑی مراکز میں انڈے دیئے جارہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ تعلیم اور نگہداشت صحت کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے بغیر بااختیار بنانا ممکن نہیں ہے ' سدارامیانے کہا کہ حکومت ریاست بھر کے تقریبا 60لاکھ طلبہ کومفت درسی کتب ' یونیفارمس اور جوتے فراہم کررہی ہے ۔سرکاری اور امدادی اسکولس میں 8ویں جماعت کے تمام طلبہ کو سائیکلیں دی جارہی ہیں۔ دنیا بھر کی آن لائن معلومات تک رسائی کے لئے ملک کے ڈگری کالجس کے 1.5لاکھ مستحق طلبہ کو جلد ہی لیاپ ٹاپ تحفے میں دیئے جائیں گے ۔


Share: